صحیح بخاری حدیث نمبر7
اس حدیث میں ہرقل اور ابوسفیان کا مکالمہ پیش کیا گیا ہے- اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہرقل کو خط مبارک پیش کیا گیا ہے-
ہرقل (شاہ روم) نے قریش کے قافلے میں ایک آدمی کو بلانے کو بھیجا اور اس وقت یہ لوگ تجارت کے لیے ملک شام گئے ہوئے تھے- اور یہ وہ زمانہ تھا جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش ابو سفیان سےیہ کیوں بند کیا ہوا ہے ایک وقت یہ بیٹھ جائیں ایک وقتی عہد کیا ہوا تھا-جب ابو سفیان اور دوسرے لوگ ہرقل کے پاس ایلیاء پہنچےجہاں ہرقل
نے دربار طلب کیا تھا-اس کے گرد روم کے بڑے بڑے لوگ علما وزراء امراءبیٹھے ہوئے تھے- ہرقل نے ان کو اوراپنے ترجمان کو بلوایا-پھر ان سے پوچھا کہ تم میں سے کون شخص مدعی رسالت کازیادہ قریبی عزیز ہے؟ ابو سفیان کہتے ہیں کہ میں بول اٹھا کہ میں اس کا سب سے زیادہ قریبی رشتہ دار ہوں-یہ سن کر ح ہرقل نے حکم دیا-ابو سفیان کو میرےقریب لا کر بیٹھاؤاور اس کے ساتھیوں کواس کی پیٹھ کے پیچھے بیٹھا دو- پھر اپنے ترجمان سے کہا کہ ان لوگوں سے کہہ دو میں ابو سفیان سے اس شخص حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے حالات پوچھتا ہوں-اگر مجھ سے کسی بات نہیں ہےجھوٹ بول دے توتم اس کا جھوٹ ظاہرکر دیناابو سفیان کا قول ہے کہ اللہ کی قسم!اگر مجھے یہ غیرت نہ آتی کہ یہ لوگ مجھ کو جھٹلائیں گےتو میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت ضرور غلط گوئی سے کام لیتا- خیرپہلی بات جو ہرقل نے مجھ سے پوچھی وه یہ کہ اس شخص کاخاندان تم لوگوں میں کیسا ہے؟میں نے کہا وہ تو بڑے اونچے عالی نسب والے ہیں- کہنے لگا اس سے پہلے بھی کسی نے تم لوگوں سے ایسی بات کہی تھی؟ میں نے کہا نہیں- ہرقل کہنے لگا اس کے بڑوں میں کوئی بادشاہ ہوا ہے؟ میں نے کہا نہیں پھر اس نے کہا بڑے لوگوں نے اس کی پیروی اختیار کی ہے یا کمزورں نے؟میں نے کہا نہیں کمزورں نے-پھر کہنے لگا اس کے تابعدارروز بڑھ جاتے ہیں یا کوئی سا تھی پھر بھی جاتا ہے؟ میں نے کہا نہیں- کہنے لگا کہ کیا اپنے اس دعویٰ نبوت سے پہلے کبھی کسی بھی موقع پر اس نے جھوٹ بولا ہے؟ میں نے کہا نہیں- اور اب ہماری اسی سے صلح کی ایک مقررہ مدت ٹھہری ہوئی ہے- معلوم نہیں وہ اس میں کیا کرنے والا ہے-ابو سفیان کہتا ہےمیں اس بات کے سوااور کوئی جھوٹ اس گفتگو میں شامل نہ کر سکا-ہرقل نے کہاکیا تمہاری اس سےکبھی لڑائی بھی ہوتی ہے؟ ہم نے کہا کہ ہاں-بولا پھر تمہاری اور اس کی جنگ کاکیا حال ہوتا ہے-میں نے کہالڑائی ڈول کی طرح ہے-کبھی وہ ہم سے میدان جنگ جیت لیتے ہیں اور کبھی ہم ان سے جیت لیتے ہیں- ہرقل نے پوچھا- وہ تمہیں کس بات کا حکم دیتا ہے؟میں نے کہا وہ کہتا ہے کے صرف ایک اللہ ہی کی عبادت کرو-اس کا کسی کو شریک نہ بناؤاور اپنے باپ دادا کی شرک کی باتیں چھوڑ دواور ہمیں نمازپڑھنےسچ بولنے پرہیزگاری اور صلہ رحمی کا حکم دیتا ہے-یہ سب سن کر ہرقل نے پھراپنے ترجمان سے کہا کہ ابو سفیان سے کہ دےکہ میں نے تم سے اس کا نسب پوچھاتم نے کہا کہ وہ ہم میں عالی نسب ہے-اور پیغمبر اپنی قوم میں عالی نسب ہی بھیجے جایا کرتے ہیں-میں نے تم سے پوچھا کے دعوی نبوت کی یہ بات تمہارے اندر ے اس سے پہلے کسی اور نے بھی کہی تھی تو تم نے جواب دیا نہیں, تب میں نے اپنے دل میں کہا کہ اگر یہ بات اس سے پہلے کسی نے کہی ہوتی تو میں سمجھتا کہ اس شخص نے بھی اسی بات کی تقلید
کی ہے جوپہلے کہی جا چکی ہے-میں نے تم سے پوچھا کہ اس کے بڑوں میں کوئی بادشاہ بھی گزرا ہے-تم نے کہا کہ نہیں-تو میں نےدل میں کہا کہ ان کے بزرگوں میں سے کوئی بادشاہ ہوگا تو کہہ دو ں گا کہ وہ شخص اس بہانے اپنے آباؤ اجداد کی بادشاہت اور ان کا ملک دوبارہ حاصل کرنا چاہتا ہے-اور میں نے تم سے پوچھا کہ پیغمبری کا دعوی کرنے سے پہلےتم نے کبھی اس کو دروغ گوئی کا الزام لگایا ہے؟ تم نے کہا کہ نہیں- تو میں نے سمجھ لیا کہ جو شخص آدمیوں کے ساتھ دروغ گوئی سے بچے وہ اللہ کے بارے کیسے جھوٹی بات کہہ سکتا ہے-اور میں نے تم سے پوچھا کہ بڑے لوگ اس کے پیروں ہوتے ہیں یا کمزور آدمی-تم نے کہا کمزوروں نےاس کی اتباع کی ہےتو دراصل یہی لوگ پیغمبروں کے متبعین ہوتے ہیں-اور میں نے تم سے پوچھا کہ اس کے ساتھی بڑھ رہے ہیں یا کم ہو رہے ہیں-تم نے کہا کہ وہ بڑھ رہے ہیں-اور ایمان کی کیفیت یہی ہوتی ہے- حتی کہ وہ کامل ہو جاتا ہے- اور میں نے تم سے پوچھا کہ آیا کوئی اس کے دین سے نا خوش ہو کر مرتر بھی ہو جاتا ہے- تم نے کہا نہیں, تو ایمان کی خاصیت بھی یہی ہےجن کے دلوں میں اس کی مسرت رچ بس جائے وہ اس سے لوٹا نہیں کرتے- اور میں نے تم سے پوچھا کہ آیا وہ عہد شکنی کرتے ہیں-تم نے کہا نہیں پیغمبروں کا یہی حال ہوتا ہے- وہ عہد کی خلاف ورزی نہیں کرتے-میں نے تم سے کہا کہ وہ تم سےکس چیز کے لئے کہتے ہیں-تم نے کہا کہ وہ ہمیں حکم دیتے ہیں کہ اللہ کی عبادت کرواس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ اور تمہیں بتوں کی پرستش سے روکتے ہے- سچ بولنے اور پرہیزگاری کا حکم دیتے ہیں- لہذا اگر یہ باتیں جو تم کہہ رہے ہوں سچ ہیں تو عنقریب وہ اس جگہ کا مالک ہو جائے گا کہ جہاں میرے یہ دونوں پاؤں ہیں-مجھے معلوم تھا کہ وہ پیغمبر آنے والا ہے-مگر مجھے یہ معلوم نہیں تھا کہ وہ تمہارے اندر ہوگا-اگر میں جانتا ہوں اس تک پہنچ سکوں گا- تواس سے ملنے کے لیے ہر تکلیف گوارا کرتا ہے- اگر میں اس کے پاس ہوتا تو اس کے پاؤں دھوتا- ہرقل نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وہ خط منگوایا جو آپ نے دحیہ کلبی رضی اللہ کے ذریعے حاکم بصرہ کے پاس بچا تھا اور اس نے وہ ہرقل کے پاس بھیج دیا تھا- پھراس کو پڑھا تو اس میں لکھا تھا:
اللہ کے نام کے ساتھ جو نہایت مہربان اور رحم والا ہے-
اللہ کے بندے اور پیغمبر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے یہ خط ہے شاہ روم کے لیے- اس شخص پر سلام ہو جو ہدایت کی پیروی کرے اس کے بعد میں آپ کے سامنے دعوت اسلام پیش کرتا ہوں-اگر آپ اسلام لے آئیں گے تو دین و دنیا میں سلامتی نصیب ہوگی-اللہ آپ کو دوہرا ثواب دے گا-اور اگر آپ میری دعوت سے روگردانی کریں گے-تو آپ کی رعایا کا گناہ بھی آپ ہی پر ہوگا-اور اے اہل کتاب!ایک ایسی بات پر آجاؤجو ہمارے اور تمہارے درمیان یکساں ہے-وہ یہ کہ ہم اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں اور کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہرائیں اور نہ ہم میں سے کوئی اللہ کے سوا کسی کو اپنا رب بنائے- پھر اگر وہ اہل کتاب اس بات سے منہ پھر لیں تو مسلمانوں تم ان سے کہہ دو کہ تم مانو یا نہ مانوہم تو ایک اللہ کے اطاعت گزار ہیں-ابو سفیان کہتا ہےجب ہرقل نے جو کچھ کہنا تھا کہ دیااور خط پڑھ کرفارغ ہوا تواس کے ارد گرد بہت شوروغوغہ ہوابہت سی آوازیں اٹھیں اور ہمیں باہر نکال دیا گیا- تب میں نے اپنے ساتھیوں سے کہا کے ابو کبشہ کے بیٹے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا معاملہ تو بہت بڑھ گیا ہےدیکھو تو اس سےبنی اصفر روم کا بادشاہ بھی ڈرتا ہے-مجھے اس وقت اس بات کا یقین ہو گیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عنقریب غالب ہو کر رہیں گے- حتی کہ اللہ نے مجھے مسلمان کر دیا- اور شام کے نصاری کا لاٹ پادری بیان کرتا تھا- کہ ہرقل جب ایلیاء آیاایک دن صبح کو پریشان اٹھاتو اس کے درباریوں نے دریافت کیا کہ آج ہم آپ کی حالت بدلی ہوئی پاتے ہیں-کیا وجہ ہے؟ ابن ناطور کا بیان ہے کہ ہرقل بادشاہ نجومی تھا-علم نجوم کا وہ ما ہرتھا-اس نے اپنے ہم نشینوں کو بتایا کہ میں نے آج رات ستاروں پر نظر ڈالی اور دیکھا کہ ختنہ کرنے والوں کا بادشاہ ہمارے ملک پر غالب آ گیا ہے- بھلا اس زمانے میں کون لوگ ختنہ کرتے ہیں؟ انہوں نے کہا یہود کے سواکوئی ختہ نہیں کرتا- سو ان کی وجہ سے پریشان نہ ہوں-سلطنت کے تمام شہروں میں یہ حکم لکھ بھیجئے کہ وہاں جتنے یہودی ہوں سب قتل کر دیئے جائیں- وه لوگ ان ہی باتوں میں مشغول تھے کہ ہرفل کے پاس ایک آدمی لایا گیا-جسے شاہ غسان نے بھیجا تھا-اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حالات بیان کیے-جب ہرقل نے سارے حالات سُن لیےتو کہا کہ جاکر دیکھوں وه ختنہ کئے ہوئے ہے یا نہیں؟ انہوں نے اسے دیکھا تو بتلایا کہ وہ ختنہ کیا ہوا ہے- ہرقل نے جب اس شخص سےعرب کے بارے میں پوچھا تو اس نے بتلایا کہ وه ختنہ کرتے ہیں- تب ہرقل نے کہا یہ ہی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس امت کے بادشاہ ہیں جو پیدا ہو چکے ہیں-پھر اس نےاپنے ایک دوست کو رومیہ خط لکھاوہ بھی علم نجوم میں ہرقل کی طرح ماہر تھا-پھر وہاں سے ہرقل حمص چلا گیا-ابھی حمص سے نکلا نہیں تھا کہ اس کے دوست کا خط اس کے جواب میں آگیا-اس کی رائے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ظہور کے بارے میں ہرقل کے موافق تھی-کی محمد صلی اللہ علیہ وسلم واقعی پیغمبر ہیں-اس کے بعد ہرقل نے روم کے بڑے آدمیوں کواپنی حمص کے محل میں طلب کیا اس کے حکم سے محل کے دروازے بند کر لیے- پھر وہ اپنے خاص محل سے باہر آیا اور کہا اے روم والوں کیا ہدایت اور کامیابی میں کچھ حصہ تمہارے لیے بھی ہے؟اگر تم اپنی سلطنت کی بقا چاہتے ہو تو پھر اس نبی کی بیعت کرلو اور مسلمان ہو جاؤ-یہ سننا تھا کہ پھروہ لوگ وحشی گدھوں کی طرح دروازوں کی طرف دوڑے مگر انہیں بند پایا- آخر جب ہرقل نے اس بات سے ان کی یہ نفرت دیکھیں-اوران کےامان لانے سے مایوس ہو گیا-تو کہنے لگا کےان لوگوں کومیرے پاس لاؤ-جب وہ دوبارہ آئےتو اس نے کہا میں نے جو بات کہی تھی اس سے تمہاری دینی پختگی کی آزمائش مقصود تھی سو وہ میں نے دیکھ لی-تب یہ بات سن کروہ سب کے سب اسی کے سامنے سجدے میں گڑ پڑےاور اس سے خوش ہوگے-بالآخر ہرقل کی آخری حالت یہ ہی رہی-

No comments:
Post a Comment