1:صحیح بخاری حدیث نمبر
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اعمال کا دارومدار نیت پر ہے-
تشریح :
اللہ تعالیٰ نےقرآن پاک نازل کیا اس کا علم حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے اس حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انسان جو اعمال کرتا ہے اس کا دارومدار نیت اور ارادے پر ہے-نیت دل کے ارادے کو کہتے ہیں -آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے اگر کوئی انسان اچھے یا برے اعمال کرتا ہے-تو وہ دل کے ارادے اور نیت سے کرتا ہے-وضو غسل نماز روزہ زکوۃ حج اور تمام عبادات کے لئے اور اس کے علاوہ اچھے برے اعمال کے لئے نیت کا عمل دخل ہے-آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نےمال و دولت حاصل کرنے کے لئےیا کسی عورت سے شادی کرنے کی غرض سے وطن کو چھوڑاتو اس کی ہجرت اسی کے لیے ہے جس کے لیے اس نے وطن کو چھوڑا اور ہجرت کی- اس حدیث میں یہ بات سمجھای گئ ہے کہ ایک شخص نے ام قیس نامی ایک عورت کو نکاح کا پیغام بھیجا- اس نے جواب دیا آپ ہجرت کر کے مدینہ آجائے تو نکاح ہو سکتا ہے-وہ شخص اسی غرض کے لیے ہجرت کر کے مدینہ پہنچا اور اس کی شادی ہو گئی -حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی واقعے کے لیے یہ حدیث فرمائی- اس حدیث میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات کی اہمیت بتائی ہےکہ قرآن پاک برکت والی کتاب ہے اس میں ہر انسان کے لیے ہدایت اور رہنمائی ہے-
صحیح بخاری حدیث:2
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی کیسے نازل ہوتی تھی
تشریح:
اللہ تعالی نےانسانوں کو قرآن پاک کی تعلیم وحی کے ذریعے سکھائی- اللہ تعالی اپنے پیغام حضرت جبرائیل علیہ السلام کے ذریعے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل فرماتے تھے-حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے-ایک شخص حارث بن ہشام نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا آپ پر وحی کیسے نازل ہوتی ہے- آپ صلی اللہ علیہ وسلم ںےفرمایا وحی نازل ہوتےوقت گھنٹی کی سی آواز محسوس ہوتی ہے وحی کی یہ کیفیت مجھ پر شاق گزرتی ہے -جب یہ کیفیت ختم ہوتی ہے تو میرے دل و دماغ پراس فرشتہ کے ذریعے نازل شدہ وحی محفوظ ہو جاتی ہے -اور بعض اوقات فرشتہ انسان کی شکل میں میرے سامنے آتا ہیں اور مجھ سے کلام کرتا ہے-بس میں اس کا کہا ہوا یاد رکھ لیتا ہوں- عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ کا بیان ہے کہ میں نے سخت کژاکے کی سردی میں دیکھا ہے کہ آپ پر وحی نازل ہوئی جب اس کا سلسلہ موقوف ہوا-جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشانی پسینے سے شرابور تھی -اس حدیث میں بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ مختلف طریقے سے محمد صلی اللہ علیہ وسلم میں وحی نازل فرماتے تھے اس حدیث میں وحی کی چار صورتیں بتای گی ہے- ۱-اللہ تعالیٰ خود اپنے نبی سے خطاب فرماتے تھے -۲-فرشتے پیغام لے کر آتے تھے -۳-قلب پر القا ہو-۴-سچے خواب دیکھائی دے-
صحیح بخاری حدیث نمبر:3
اس حدیث میں یہ بتایاگیا ہے کہ اللہ پاک نےمحمدصلی اللہ علیہ وسلم پر وحی کا آغازکیسے کیا حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایاکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی کاابتدائی دوراچھے سچے پاکیزہ خوابوں سے شروع ہوا-آپ خواب میں جو کچھ دیکھتےوہ صبح کی روشنی کی طرح صحیح اور سچا ثابت ہوتا ہے-پھر آپ تنہائی پسند ہو گئے-آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نےغارحرا میں خلوت نشینی اختیار فرمای - کئ کئ دن اور رات وہاں مسلسل عبادت اور ذکرِ الٰہی میں مشغول رہتے ہیں- جب تک گھرآنے کو دل نہ چاہتا توشہ ہمراہ لیے ہوئے وہاں رہتے توشہ ختم ہونے پر حضرت خدیجہ رضی اللہ کے پاس تشریف لاتے یہی طریقہ جاری رہایہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پرحق منکشف ہو گیا-اور آپ غار حرا میں قیام پزیر تھےکہ اچانک حضرت جبرائیل علیہ السلام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے-اور کہنے لگےاے محمد!پڑھوآپ نے کہا میں پڑںا نیہں جانتا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ فرشتوں نے مجھے اتنے زور سےبھینچاکےمیری طاقت جواب دے گئی- مجھے چھوڑ کر کہا کہ پڑھو میں نے پھر وہی جواب دیاکہ میں پڑھا ہوا نہیں ہوں- اس فرشتے نے مجھ کو نہایت زور سے بھینچا کہ مجھ کو سخت تکلیف محسوس ہوئی پھر اس نے کہا کہ پڑھ میں نے کہا کہ میں پڑھا ہوا نہیں ہوں فرشتے نے تیسری بار مجھ کو پکڑا اور تیسری مرتبہ مجھ کوبھینچا پھر مجھے چھوڑ دیا اور کہنے لگا کہ پڑھواپنے رب کے نام کی مدد سے جس میں پیدا کیااور انسان کو خون کی پھٹکی سے بنایا، پژھواور آپ کا رب بہت ہی مہربانیاں کرنےوالاہے-پس یہی آیتیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم جبریل علیہ السلام سے سن کراس حال میں غار حرا سے واپس ہوتے كہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا دل انوکھے واقعہ سے کا نپ رہا تھا -آپ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت خدیجہ کے ہاں تشریف لائےاور فرمایا کہ مجھے کمبل اوڑھا دو-حضرت خدیجہ علیہ السلام نے آپ کوکمبل اڑھا-جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ڈر جاتا رہا تو آپ نے اپنی زوجہ محترمہ کو تفصیل کے ساتھ یہ واقعہ سنایا اور فرمانے لگے کہ مجھ کو اپنی جان کا خوف ہو گیا ہے-آپ کی اہلیہ حضرت خدیجہ علیہ السلام نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کى ڈھارس بندھائی-اور کہاں ہیں اللہ کی قسم اللہ آپ کو کبھی رسوا نہیں کرے گا, آپ تو اخلاق فاضلہ کے مالک ہیں, آپ توکنبہ پرورہیں-بے کسوں کا بوجھ اپنے سر پر لیتے ہیں- مفلسوں کے لیے آپ کماتے ہیں- مہمان نوازى میں آپ بے مثال ہیں-اور مشکل وقت میں آپ امر حق کا ساتھ دیتے ہیں-پھر مزید تسلی کے لیے حضرت خدیجہ علیہ السلام آپ کوورقہ بن نوفل کے پاس لے گی جو ان کے چچا زاد بھائی تھے اور زمانہ جاہلیت نصرانی مذہب اختیار کر چکے ہیں عبرانی زبان کے کاتب تھے-چناچہ انجیل کو بھی حسب منشاءخداوندی عربی زبان میں لکھا کرتے تھے-انجیل سریانی زبان میں نازل ہوئی اس کا ترجمہ عبرانی زبان میں ہواورقہ اسی کو لکھتے تھے-اور بہت بوڑھے ہو گئے تھے-یہاں تک کہ ان کی بینائی بھی رخصت ہو چکی تھی-حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہ نےان کے سامنے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حلات بیان کیے اور کہا اے چچازاد بھائی!اپنے بھتیجے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی ذرا ان کی کیفیت سن لیجئےوہ بولے بھتیجےآپ نے جو کچھ دیکھا-اس کی تفصیل سناؤ- چنانچہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نےاول تا آخر پورا واقعہ سنایا-جسے سن کرورقہ بےاختیار بول اٹھےیہ تو وہی معزز بے اختیار فرشتہ ہے-جسے اللہ نے موسی علیہ السلام پروحی دے کر بھیجا تھا-کاش میں آپ کے اس عہد نبوت کے شروع ہونے پر جوان عمر ہوتا-کاش میں اس وقت تک زندہ رہتا ہے-جبکہ آپ کی قوم آپ کو اس شہر سے نکال دیں گی-رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ سن کر تعجب سے پوچھا کہ کیا وہ لوگ مجھ کو نکال دیں گے ؟ حالانکہ ان میں صادق اور امین و مقبول ہوں- ورقہ بولا ہاں یہ سب کچھ سچ ہے-مگر جو شخص بھی آپ کی طرح امر حق لے کر آیالوگ اس کے دشمن ہی ہو گئے ہیں-اگر مجھے آپ کی نبوت کا وہ زمانہ مل جائے تو میں آپ کی پوری پوری مدد کروں گا-مگر ورقہ کچھ دنوں کے بعد انتقال کر گئے-پھر کچھ عرصہ تک وحی کی آمد موقوف رہی-


No comments:
Post a Comment