In 2024, Subway's cookies remain a beloved treat, known for their soft, gooey texture and indulgent flavors like chocolate chip and oatmeal raisin. Continuing their tradition of freshly baked goods, Subway ensures that their cookies are a delightful accompaniment to any meal or snack, satisfying cravings with every bite.
ISLAMIC HISTORY
Islam Major World religion promulgated by the Prophet Muhammad in Arabia in the 7th century CE.Allah is viewed as the sole God-creator, sustainer, and restorer of the world.
Friday, May 10, 2024
Subway salads offer a fresh and customizable option for health-conscious diners, featuring a variety of crisp vegetables, protein choices like grilled chicken or turkey, and flavorful dressings. With options to tailor ingredients to personal preferences, Subway salads provide a tasty and nutritious meal on the go.
Thursday, May 9, 2024
Saturday, April 20, 2024
Backlinks Indexing
Indexing backlinks is fundamental to SEO success. This includes ensuring that search engines recognize and include backlinks in their databases, increasing website authority and visibility. Techniques such as URL submission, social bookmarking, and using indexing services speed up this process. Monitoring the status of backlink indexing is essential to assess SEO effectiveness. While not all backlinks index immediately, strategic promotion increases visibility and improves a website's ability to rank in search engine results. This ongoing process of indexing and optimizing backlinks is essential to maintain and increase a website's presence in a competitive digital landscape.
Tuesday, October 18, 2022
SAHIH BUKHARI'S HADITH
صحیح بخاری حدیث نمبر7
اس حدیث میں ہرقل اور ابوسفیان کا مکالمہ پیش کیا گیا ہے- اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہرقل کو خط مبارک پیش کیا گیا ہے-
ہرقل (شاہ روم) نے قریش کے قافلے میں ایک آدمی کو بلانے کو بھیجا اور اس وقت یہ لوگ تجارت کے لیے ملک شام گئے ہوئے تھے- اور یہ وہ زمانہ تھا جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش ابو سفیان سےیہ کیوں بند کیا ہوا ہے ایک وقت یہ بیٹھ جائیں ایک وقتی عہد کیا ہوا تھا-جب ابو سفیان اور دوسرے لوگ ہرقل کے پاس ایلیاء پہنچےجہاں ہرقل
نے دربار طلب کیا تھا-اس کے گرد روم کے بڑے بڑے لوگ علما وزراء امراءبیٹھے ہوئے تھے- ہرقل نے ان کو اوراپنے ترجمان کو بلوایا-پھر ان سے پوچھا کہ تم میں سے کون شخص مدعی رسالت کازیادہ قریبی عزیز ہے؟ ابو سفیان کہتے ہیں کہ میں بول اٹھا کہ میں اس کا سب سے زیادہ قریبی رشتہ دار ہوں-یہ سن کر ح ہرقل نے حکم دیا-ابو سفیان کو میرےقریب لا کر بیٹھاؤاور اس کے ساتھیوں کواس کی پیٹھ کے پیچھے بیٹھا دو- پھر اپنے ترجمان سے کہا کہ ان لوگوں سے کہہ دو میں ابو سفیان سے اس شخص حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے حالات پوچھتا ہوں-اگر مجھ سے کسی بات نہیں ہےجھوٹ بول دے توتم اس کا جھوٹ ظاہرکر دیناابو سفیان کا قول ہے کہ اللہ کی قسم!اگر مجھے یہ غیرت نہ آتی کہ یہ لوگ مجھ کو جھٹلائیں گےتو میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت ضرور غلط گوئی سے کام لیتا- خیرپہلی بات جو ہرقل نے مجھ سے پوچھی وه یہ کہ اس شخص کاخاندان تم لوگوں میں کیسا ہے؟میں نے کہا وہ تو بڑے اونچے عالی نسب والے ہیں- کہنے لگا اس سے پہلے بھی کسی نے تم لوگوں سے ایسی بات کہی تھی؟ میں نے کہا نہیں- ہرقل کہنے لگا اس کے بڑوں میں کوئی بادشاہ ہوا ہے؟ میں نے کہا نہیں پھر اس نے کہا بڑے لوگوں نے اس کی پیروی اختیار کی ہے یا کمزورں نے؟میں نے کہا نہیں کمزورں نے-پھر کہنے لگا اس کے تابعدارروز بڑھ جاتے ہیں یا کوئی سا تھی پھر بھی جاتا ہے؟ میں نے کہا نہیں- کہنے لگا کہ کیا اپنے اس دعویٰ نبوت سے پہلے کبھی کسی بھی موقع پر اس نے جھوٹ بولا ہے؟ میں نے کہا نہیں- اور اب ہماری اسی سے صلح کی ایک مقررہ مدت ٹھہری ہوئی ہے- معلوم نہیں وہ اس میں کیا کرنے والا ہے-ابو سفیان کہتا ہےمیں اس بات کے سوااور کوئی جھوٹ اس گفتگو میں شامل نہ کر سکا-ہرقل نے کہاکیا تمہاری اس سےکبھی لڑائی بھی ہوتی ہے؟ ہم نے کہا کہ ہاں-بولا پھر تمہاری اور اس کی جنگ کاکیا حال ہوتا ہے-میں نے کہالڑائی ڈول کی طرح ہے-کبھی وہ ہم سے میدان جنگ جیت لیتے ہیں اور کبھی ہم ان سے جیت لیتے ہیں- ہرقل نے پوچھا- وہ تمہیں کس بات کا حکم دیتا ہے؟میں نے کہا وہ کہتا ہے کے صرف ایک اللہ ہی کی عبادت کرو-اس کا کسی کو شریک نہ بناؤاور اپنے باپ دادا کی شرک کی باتیں چھوڑ دواور ہمیں نمازپڑھنےسچ بولنے پرہیزگاری اور صلہ رحمی کا حکم دیتا ہے-یہ سب سن کر ہرقل نے پھراپنے ترجمان سے کہا کہ ابو سفیان سے کہ دےکہ میں نے تم سے اس کا نسب پوچھاتم نے کہا کہ وہ ہم میں عالی نسب ہے-اور پیغمبر اپنی قوم میں عالی نسب ہی بھیجے جایا کرتے ہیں-میں نے تم سے پوچھا کے دعوی نبوت کی یہ بات تمہارے اندر ے اس سے پہلے کسی اور نے بھی کہی تھی تو تم نے جواب دیا نہیں, تب میں نے اپنے دل میں کہا کہ اگر یہ بات اس سے پہلے کسی نے کہی ہوتی تو میں سمجھتا کہ اس شخص نے بھی اسی بات کی تقلید
کی ہے جوپہلے کہی جا چکی ہے-میں نے تم سے پوچھا کہ اس کے بڑوں میں کوئی بادشاہ بھی گزرا ہے-تم نے کہا کہ نہیں-تو میں نےدل میں کہا کہ ان کے بزرگوں میں سے کوئی بادشاہ ہوگا تو کہہ دو ں گا کہ وہ شخص اس بہانے اپنے آباؤ اجداد کی بادشاہت اور ان کا ملک دوبارہ حاصل کرنا چاہتا ہے-اور میں نے تم سے پوچھا کہ پیغمبری کا دعوی کرنے سے پہلےتم نے کبھی اس کو دروغ گوئی کا الزام لگایا ہے؟ تم نے کہا کہ نہیں- تو میں نے سمجھ لیا کہ جو شخص آدمیوں کے ساتھ دروغ گوئی سے بچے وہ اللہ کے بارے کیسے جھوٹی بات کہہ سکتا ہے-اور میں نے تم سے پوچھا کہ بڑے لوگ اس کے پیروں ہوتے ہیں یا کمزور آدمی-تم نے کہا کمزوروں نےاس کی اتباع کی ہےتو دراصل یہی لوگ پیغمبروں کے متبعین ہوتے ہیں-اور میں نے تم سے پوچھا کہ اس کے ساتھی بڑھ رہے ہیں یا کم ہو رہے ہیں-تم نے کہا کہ وہ بڑھ رہے ہیں-اور ایمان کی کیفیت یہی ہوتی ہے- حتی کہ وہ کامل ہو جاتا ہے- اور میں نے تم سے پوچھا کہ آیا کوئی اس کے دین سے نا خوش ہو کر مرتر بھی ہو جاتا ہے- تم نے کہا نہیں, تو ایمان کی خاصیت بھی یہی ہےجن کے دلوں میں اس کی مسرت رچ بس جائے وہ اس سے لوٹا نہیں کرتے- اور میں نے تم سے پوچھا کہ آیا وہ عہد شکنی کرتے ہیں-تم نے کہا نہیں پیغمبروں کا یہی حال ہوتا ہے- وہ عہد کی خلاف ورزی نہیں کرتے-میں نے تم سے کہا کہ وہ تم سےکس چیز کے لئے کہتے ہیں-تم نے کہا کہ وہ ہمیں حکم دیتے ہیں کہ اللہ کی عبادت کرواس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ اور تمہیں بتوں کی پرستش سے روکتے ہے- سچ بولنے اور پرہیزگاری کا حکم دیتے ہیں- لہذا اگر یہ باتیں جو تم کہہ رہے ہوں سچ ہیں تو عنقریب وہ اس جگہ کا مالک ہو جائے گا کہ جہاں میرے یہ دونوں پاؤں ہیں-مجھے معلوم تھا کہ وہ پیغمبر آنے والا ہے-مگر مجھے یہ معلوم نہیں تھا کہ وہ تمہارے اندر ہوگا-اگر میں جانتا ہوں اس تک پہنچ سکوں گا- تواس سے ملنے کے لیے ہر تکلیف گوارا کرتا ہے- اگر میں اس کے پاس ہوتا تو اس کے پاؤں دھوتا- ہرقل نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وہ خط منگوایا جو آپ نے دحیہ کلبی رضی اللہ کے ذریعے حاکم بصرہ کے پاس بچا تھا اور اس نے وہ ہرقل کے پاس بھیج دیا تھا- پھراس کو پڑھا تو اس میں لکھا تھا:
اللہ کے نام کے ساتھ جو نہایت مہربان اور رحم والا ہے-
اللہ کے بندے اور پیغمبر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے یہ خط ہے شاہ روم کے لیے- اس شخص پر سلام ہو جو ہدایت کی پیروی کرے اس کے بعد میں آپ کے سامنے دعوت اسلام پیش کرتا ہوں-اگر آپ اسلام لے آئیں گے تو دین و دنیا میں سلامتی نصیب ہوگی-اللہ آپ کو دوہرا ثواب دے گا-اور اگر آپ میری دعوت سے روگردانی کریں گے-تو آپ کی رعایا کا گناہ بھی آپ ہی پر ہوگا-اور اے اہل کتاب!ایک ایسی بات پر آجاؤجو ہمارے اور تمہارے درمیان یکساں ہے-وہ یہ کہ ہم اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں اور کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہرائیں اور نہ ہم میں سے کوئی اللہ کے سوا کسی کو اپنا رب بنائے- پھر اگر وہ اہل کتاب اس بات سے منہ پھر لیں تو مسلمانوں تم ان سے کہہ دو کہ تم مانو یا نہ مانوہم تو ایک اللہ کے اطاعت گزار ہیں-ابو سفیان کہتا ہےجب ہرقل نے جو کچھ کہنا تھا کہ دیااور خط پڑھ کرفارغ ہوا تواس کے ارد گرد بہت شوروغوغہ ہوابہت سی آوازیں اٹھیں اور ہمیں باہر نکال دیا گیا- تب میں نے اپنے ساتھیوں سے کہا کے ابو کبشہ کے بیٹے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا معاملہ تو بہت بڑھ گیا ہےدیکھو تو اس سےبنی اصفر روم کا بادشاہ بھی ڈرتا ہے-مجھے اس وقت اس بات کا یقین ہو گیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عنقریب غالب ہو کر رہیں گے- حتی کہ اللہ نے مجھے مسلمان کر دیا- اور شام کے نصاری کا لاٹ پادری بیان کرتا تھا- کہ ہرقل جب ایلیاء آیاایک دن صبح کو پریشان اٹھاتو اس کے درباریوں نے دریافت کیا کہ آج ہم آپ کی حالت بدلی ہوئی پاتے ہیں-کیا وجہ ہے؟ ابن ناطور کا بیان ہے کہ ہرقل بادشاہ نجومی تھا-علم نجوم کا وہ ما ہرتھا-اس نے اپنے ہم نشینوں کو بتایا کہ میں نے آج رات ستاروں پر نظر ڈالی اور دیکھا کہ ختنہ کرنے والوں کا بادشاہ ہمارے ملک پر غالب آ گیا ہے- بھلا اس زمانے میں کون لوگ ختنہ کرتے ہیں؟ انہوں نے کہا یہود کے سواکوئی ختہ نہیں کرتا- سو ان کی وجہ سے پریشان نہ ہوں-سلطنت کے تمام شہروں میں یہ حکم لکھ بھیجئے کہ وہاں جتنے یہودی ہوں سب قتل کر دیئے جائیں- وه لوگ ان ہی باتوں میں مشغول تھے کہ ہرفل کے پاس ایک آدمی لایا گیا-جسے شاہ غسان نے بھیجا تھا-اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حالات بیان کیے-جب ہرقل نے سارے حالات سُن لیےتو کہا کہ جاکر دیکھوں وه ختنہ کئے ہوئے ہے یا نہیں؟ انہوں نے اسے دیکھا تو بتلایا کہ وہ ختنہ کیا ہوا ہے- ہرقل نے جب اس شخص سےعرب کے بارے میں پوچھا تو اس نے بتلایا کہ وه ختنہ کرتے ہیں- تب ہرقل نے کہا یہ ہی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس امت کے بادشاہ ہیں جو پیدا ہو چکے ہیں-پھر اس نےاپنے ایک دوست کو رومیہ خط لکھاوہ بھی علم نجوم میں ہرقل کی طرح ماہر تھا-پھر وہاں سے ہرقل حمص چلا گیا-ابھی حمص سے نکلا نہیں تھا کہ اس کے دوست کا خط اس کے جواب میں آگیا-اس کی رائے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ظہور کے بارے میں ہرقل کے موافق تھی-کی محمد صلی اللہ علیہ وسلم واقعی پیغمبر ہیں-اس کے بعد ہرقل نے روم کے بڑے آدمیوں کواپنی حمص کے محل میں طلب کیا اس کے حکم سے محل کے دروازے بند کر لیے- پھر وہ اپنے خاص محل سے باہر آیا اور کہا اے روم والوں کیا ہدایت اور کامیابی میں کچھ حصہ تمہارے لیے بھی ہے؟اگر تم اپنی سلطنت کی بقا چاہتے ہو تو پھر اس نبی کی بیعت کرلو اور مسلمان ہو جاؤ-یہ سننا تھا کہ پھروہ لوگ وحشی گدھوں کی طرح دروازوں کی طرف دوڑے مگر انہیں بند پایا- آخر جب ہرقل نے اس بات سے ان کی یہ نفرت دیکھیں-اوران کےامان لانے سے مایوس ہو گیا-تو کہنے لگا کےان لوگوں کومیرے پاس لاؤ-جب وہ دوبارہ آئےتو اس نے کہا میں نے جو بات کہی تھی اس سے تمہاری دینی پختگی کی آزمائش مقصود تھی سو وہ میں نے دیکھ لی-تب یہ بات سن کروہ سب کے سب اسی کے سامنے سجدے میں گڑ پڑےاور اس سے خوش ہوگے-بالآخر ہرقل کی آخری حالت یہ ہی رہی-
Sunday, October 16, 2022
SAHIH BHUKARI,S HADITH
حدیث نمبر 4
درمیان کرسی پر بیٹھنے کا ذکر
تشریح:
ابن شہاب کہتے ہیں مجھ کو ابو سلمہ بن عبدالرحمن نے جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہ سے یہ روایت نقل کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وحی کے رک جانے کے زمانے کےحالات بیان کرتے ہوئے کہا-کہ ایک روز میں چلا جا رہا تھا کہ اچانک میں نےآسمان کی طرف دیکھا ہےایک آواز سنی اور میں نے اپنا سر آسمان کی طرف اٹھایاکیا دیکھتا ہوں کہ وہی فرشتے جو میرے پاس غار حرا میں آیا تھا تو آسمان اور زمین کے بیچ میں کرسی پر بیٹھا ہوا ہے- میں اس سے ڈر گیا اور گھر آنے پر میں نے پھر کمبل اوڑھنے کی خواہش ظاہر کی-اس وقت اللہ کی طرف سےیہ آیات نازل ہوئیں- اے لحاف اوڑھ کر لیٹنے والے!اٹھ کھڑا ہو اور لوگوں کو عذاب الہی سے ڈرااور اپنے رب کی بڑائی بیان کراور اپنے کپڑوں کو پاک صاف رکھ اور گندگی سے دور رہ-اس کے بعد وحی تیزی کے ساتھ پے در پے آنے لگی
حدیث نمبر 5
اس حدیث میں حضرت سعید بن جبیر رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ انہوں نے ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ سے کلامِ الٰہی کی تفسیر کے سلسلے میں سنا رسول صلی اللہ علیہ وسلم نزول قرآن کے وقت بہت سختی محسوس فرمایا کرتے تھے-اور اس کی علامتوں میں سےایک یہ تھی کہ یاد کرنے کے لیےآپ اپنے ہونٹوں کو ہلاتے تھے-ابن عباس نے کہا میں اپنے ہونٹ ہلاتا ہوں جس طرح آپ ہلاتےتھے-سعید کہتے ہیں میں بھی اپنے ہونٹ ہلاتا ہوں جس طرح ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ کو میں نے ہلاتے دیکھا- پھرانہوں نے اپنے ہونٹ ہلائے- ابن عباس نے کہا ہے پھریہ آیت اتری کہ اے محمد!قرآن کو جلدجلد یاد کرنے کے اپنی زبان نہ ہلاو-اس کا جمع کر دینا اور پڑھا دیناہمارا زمہ ہے- ابن عباس کہتے ہیں قرآن پاک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دل میں جما دینا اور پڑھا دینا ہمارے ذمہ ہے- پھر جب ہم پڑھ چکیں تو اس پڑھے ہوئے کی اتباع کرو- ابن عباس فرماتے ہیں اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ اس کو خاموشی کے ساتھ سنتے رہو- اس کے بعدمطلب سمجھادینا ہمارے ذمہ ہے- پھریقینایہ ہماری ذمہ داری ہے کہ آپ اس کو پڑھو یعنی اس کو محفوظ کر سکو چنانچہ اس کے بعدجب آپ کے پاس جبرائیل علیہ السلام وحی لے کر آتے تو آپ توجہ سے سنتے-جب وہ چلے جاتے تو رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس وحی کواسی طرح پرھتےجس طرح سے جیرائیل علیہ السلام نے اسے پڑھا تھا
صحیح بخاری حدیث نمبر 6
رمضان المبارک میں حضرت جبرائیل علیہ السلام کا وحی لانا
تفصیل:
اس حدیث میں یہ بتایا گیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سب لوگوں سےزیادہ سخی تھے- اوررمضان میں دوسرے اوقات کے مقابلے میں جب جبریل علیہ السلام آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملتے بہت ہی زیادہ سخاوت فرماتے- جبرائیل علیہ السلام علیکم رمضان کی ہر رات میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کرتے ہیں- اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ قرآن کا دورہ کرتے ہیں- غرض نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو بھلائی پہنچا نے میں بارش لانے والی ہوا سے بھی زیاده سخاوت کرم فرماتےتھے-
Saturday, October 15, 2022
SAHIH BUKHARI'S HADITH
1:صحیح بخاری حدیث نمبر
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اعمال کا دارومدار نیت پر ہے-
تشریح :
اللہ تعالیٰ نےقرآن پاک نازل کیا اس کا علم حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے اس حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انسان جو اعمال کرتا ہے اس کا دارومدار نیت اور ارادے پر ہے-نیت دل کے ارادے کو کہتے ہیں -آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے اگر کوئی انسان اچھے یا برے اعمال کرتا ہے-تو وہ دل کے ارادے اور نیت سے کرتا ہے-وضو غسل نماز روزہ زکوۃ حج اور تمام عبادات کے لئے اور اس کے علاوہ اچھے برے اعمال کے لئے نیت کا عمل دخل ہے-آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نےمال و دولت حاصل کرنے کے لئےیا کسی عورت سے شادی کرنے کی غرض سے وطن کو چھوڑاتو اس کی ہجرت اسی کے لیے ہے جس کے لیے اس نے وطن کو چھوڑا اور ہجرت کی- اس حدیث میں یہ بات سمجھای گئ ہے کہ ایک شخص نے ام قیس نامی ایک عورت کو نکاح کا پیغام بھیجا- اس نے جواب دیا آپ ہجرت کر کے مدینہ آجائے تو نکاح ہو سکتا ہے-وہ شخص اسی غرض کے لیے ہجرت کر کے مدینہ پہنچا اور اس کی شادی ہو گئی -حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی واقعے کے لیے یہ حدیث فرمائی- اس حدیث میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات کی اہمیت بتائی ہےکہ قرآن پاک برکت والی کتاب ہے اس میں ہر انسان کے لیے ہدایت اور رہنمائی ہے-
صحیح بخاری حدیث:2
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی کیسے نازل ہوتی تھی
تشریح:
اللہ تعالی نےانسانوں کو قرآن پاک کی تعلیم وحی کے ذریعے سکھائی- اللہ تعالی اپنے پیغام حضرت جبرائیل علیہ السلام کے ذریعے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل فرماتے تھے-حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے-ایک شخص حارث بن ہشام نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا آپ پر وحی کیسے نازل ہوتی ہے- آپ صلی اللہ علیہ وسلم ںےفرمایا وحی نازل ہوتےوقت گھنٹی کی سی آواز محسوس ہوتی ہے وحی کی یہ کیفیت مجھ پر شاق گزرتی ہے -جب یہ کیفیت ختم ہوتی ہے تو میرے دل و دماغ پراس فرشتہ کے ذریعے نازل شدہ وحی محفوظ ہو جاتی ہے -اور بعض اوقات فرشتہ انسان کی شکل میں میرے سامنے آتا ہیں اور مجھ سے کلام کرتا ہے-بس میں اس کا کہا ہوا یاد رکھ لیتا ہوں- عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ کا بیان ہے کہ میں نے سخت کژاکے کی سردی میں دیکھا ہے کہ آپ پر وحی نازل ہوئی جب اس کا سلسلہ موقوف ہوا-جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشانی پسینے سے شرابور تھی -اس حدیث میں بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ مختلف طریقے سے محمد صلی اللہ علیہ وسلم میں وحی نازل فرماتے تھے اس حدیث میں وحی کی چار صورتیں بتای گی ہے- ۱-اللہ تعالیٰ خود اپنے نبی سے خطاب فرماتے تھے -۲-فرشتے پیغام لے کر آتے تھے -۳-قلب پر القا ہو-۴-سچے خواب دیکھائی دے-
صحیح بخاری حدیث نمبر:3
اس حدیث میں یہ بتایاگیا ہے کہ اللہ پاک نےمحمدصلی اللہ علیہ وسلم پر وحی کا آغازکیسے کیا حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایاکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی کاابتدائی دوراچھے سچے پاکیزہ خوابوں سے شروع ہوا-آپ خواب میں جو کچھ دیکھتےوہ صبح کی روشنی کی طرح صحیح اور سچا ثابت ہوتا ہے-پھر آپ تنہائی پسند ہو گئے-آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نےغارحرا میں خلوت نشینی اختیار فرمای - کئ کئ دن اور رات وہاں مسلسل عبادت اور ذکرِ الٰہی میں مشغول رہتے ہیں- جب تک گھرآنے کو دل نہ چاہتا توشہ ہمراہ لیے ہوئے وہاں رہتے توشہ ختم ہونے پر حضرت خدیجہ رضی اللہ کے پاس تشریف لاتے یہی طریقہ جاری رہایہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پرحق منکشف ہو گیا-اور آپ غار حرا میں قیام پزیر تھےکہ اچانک حضرت جبرائیل علیہ السلام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے-اور کہنے لگےاے محمد!پڑھوآپ نے کہا میں پڑںا نیہں جانتا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ فرشتوں نے مجھے اتنے زور سےبھینچاکےمیری طاقت جواب دے گئی- مجھے چھوڑ کر کہا کہ پڑھو میں نے پھر وہی جواب دیاکہ میں پڑھا ہوا نہیں ہوں- اس فرشتے نے مجھ کو نہایت زور سے بھینچا کہ مجھ کو سخت تکلیف محسوس ہوئی پھر اس نے کہا کہ پڑھ میں نے کہا کہ میں پڑھا ہوا نہیں ہوں فرشتے نے تیسری بار مجھ کو پکڑا اور تیسری مرتبہ مجھ کوبھینچا پھر مجھے چھوڑ دیا اور کہنے لگا کہ پڑھواپنے رب کے نام کی مدد سے جس میں پیدا کیااور انسان کو خون کی پھٹکی سے بنایا، پژھواور آپ کا رب بہت ہی مہربانیاں کرنےوالاہے-پس یہی آیتیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم جبریل علیہ السلام سے سن کراس حال میں غار حرا سے واپس ہوتے كہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا دل انوکھے واقعہ سے کا نپ رہا تھا -آپ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت خدیجہ کے ہاں تشریف لائےاور فرمایا کہ مجھے کمبل اوڑھا دو-حضرت خدیجہ علیہ السلام نے آپ کوکمبل اڑھا-جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ڈر جاتا رہا تو آپ نے اپنی زوجہ محترمہ کو تفصیل کے ساتھ یہ واقعہ سنایا اور فرمانے لگے کہ مجھ کو اپنی جان کا خوف ہو گیا ہے-آپ کی اہلیہ حضرت خدیجہ علیہ السلام نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کى ڈھارس بندھائی-اور کہاں ہیں اللہ کی قسم اللہ آپ کو کبھی رسوا نہیں کرے گا, آپ تو اخلاق فاضلہ کے مالک ہیں, آپ توکنبہ پرورہیں-بے کسوں کا بوجھ اپنے سر پر لیتے ہیں- مفلسوں کے لیے آپ کماتے ہیں- مہمان نوازى میں آپ بے مثال ہیں-اور مشکل وقت میں آپ امر حق کا ساتھ دیتے ہیں-پھر مزید تسلی کے لیے حضرت خدیجہ علیہ السلام آپ کوورقہ بن نوفل کے پاس لے گی جو ان کے چچا زاد بھائی تھے اور زمانہ جاہلیت نصرانی مذہب اختیار کر چکے ہیں عبرانی زبان کے کاتب تھے-چناچہ انجیل کو بھی حسب منشاءخداوندی عربی زبان میں لکھا کرتے تھے-انجیل سریانی زبان میں نازل ہوئی اس کا ترجمہ عبرانی زبان میں ہواورقہ اسی کو لکھتے تھے-اور بہت بوڑھے ہو گئے تھے-یہاں تک کہ ان کی بینائی بھی رخصت ہو چکی تھی-حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہ نےان کے سامنے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حلات بیان کیے اور کہا اے چچازاد بھائی!اپنے بھتیجے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی ذرا ان کی کیفیت سن لیجئےوہ بولے بھتیجےآپ نے جو کچھ دیکھا-اس کی تفصیل سناؤ- چنانچہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نےاول تا آخر پورا واقعہ سنایا-جسے سن کرورقہ بےاختیار بول اٹھےیہ تو وہی معزز بے اختیار فرشتہ ہے-جسے اللہ نے موسی علیہ السلام پروحی دے کر بھیجا تھا-کاش میں آپ کے اس عہد نبوت کے شروع ہونے پر جوان عمر ہوتا-کاش میں اس وقت تک زندہ رہتا ہے-جبکہ آپ کی قوم آپ کو اس شہر سے نکال دیں گی-رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ سن کر تعجب سے پوچھا کہ کیا وہ لوگ مجھ کو نکال دیں گے ؟ حالانکہ ان میں صادق اور امین و مقبول ہوں- ورقہ بولا ہاں یہ سب کچھ سچ ہے-مگر جو شخص بھی آپ کی طرح امر حق لے کر آیالوگ اس کے دشمن ہی ہو گئے ہیں-اگر مجھے آپ کی نبوت کا وہ زمانہ مل جائے تو میں آپ کی پوری پوری مدد کروں گا-مگر ورقہ کچھ دنوں کے بعد انتقال کر گئے-پھر کچھ عرصہ تک وحی کی آمد موقوف رہی-
In 2024, Subway's cookies remain a beloved treat, known for their soft, gooey texture and indulgent flavors like chocolate chip and o...




